اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صدر رجب طیب اردوان نے ہفتے کے روز استنبول میں منعقدہ ایک تقریب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کے انفراسٹرکچر بالخصوص تعلیمی اداروں پر حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا کی خاموشی نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ یہ ظلم میں بالواسطہ شمولیت کے مترادف ہے۔
صدر اردوان نے کہا کہ غزہ کے 365 مربع کلومیٹر کے رقبے پر ملبے اور تباہی کے پہاڑ پھیل چکے ہیں اور علاقے کے 80 فیصد اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ تقریباً کوئی عمارت محفوظ نہیں رہی۔
انہوں نے تعلیمی شعبے میں ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار کو “انسانیت کے لیے باعثِ شرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں 165 تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 13 ہزار 500 سے زائد طلبہ اور 193 اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم شہید ہو چکے ہیں۔ اس وقت 7 لاکھ 85 ہزار سے زائد طلبہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔
صدر ترک نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو روکنے کے لیے منظم گمراہ کن مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی میڈیا کی دوہری پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو میڈیا ترکیہ میں پارک گیزی مظاہروں کے دوران تقسیم اسکوائر میں موجود تھا، وہی میڈیا آج غزہ میں 270 سے زائد صحافیوں کی شہادت پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔
صدر اردوان نے واضح کیا کہ ان جرائم پر خاموشی اختیار کرنا نسل کشی میں شریک ہونے کے برابر ہے اور ترکیہ کی حکومت ہر فورم پر حقائق دنیا کے سامنے لاتی رہے گی۔
عالمی یومِ یکجہتیٔ فلسطین کے موقع پر صدر اردوان نے اعلان کیا کہ انقرہ غزہ کے لیے انسانی امداد کی ترسیل کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر ترکیہ کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ مسئلۂ فلسطین کا حل 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے میں ہے۔
آپ کا تبصرہ